Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Urdu articles

Top 10 AI Tools for 2023: ChatGPT, Google Bard, and More

  Introduction: Artificial intelligence (AI) is rapidly changing the world, and there are now a wide variety of AI tools available to businesses and individuals. These tools can be used for a variety of purposes, including automating tasks, generating creative content, and providing insights into data. In this blog post, we will discuss the top 10 AI tools for 2023. These tools include ChatGPT, Google Bard, and a variety of other powerful AI solutions. 1. Chat GPT: Chat GPT, powered by OpenAI, is an advanced language model that enables natural and engaging conversations with users. It leverages deep learning to generate contextually relevant responses and has gained popularity for its ability to understand and mimic human-like conversations. 2. Google BARD: Google BARD (Bidirectional Encoder Representations from Transformers) is a state-of-the-art language model developed by Google. It excels in various language-related tasks, such as text completion, summarization, and translatio...

برنڈل سل کا مستقبل کے لوگوں کی لئیے پیغام

 مشہور فلاسفر اور ریاضی دان برٹرنڈ رسل سے ایک انٹرویو کے آخر پر انٹرویو لینے والے نے سوال کیا کہ فرض کریں کہ آج سے ایک ہزار سال کے بعد لوگ اس انٹرویو کو سنیں تو مستقبل کے لوگوں کے لئے آپ کا کیا پیغام ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں مستقبل کی انسانیت کو دو پیغام دینا چاہوں گا۔ ایک تو عقل و دانش کا پیغام یہ دینا چاہوں گا کہ جب آپ کسی چیز یا فلسفے کا مطالعہ کر رہے ہوں تو اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ حقائق کیا ہیں اور حقائق سے کیا سچائی ظاہر ہوتی ہے؟ کبھی اپنی سوچ کا رخ اس طرف نہ مڑنے دیں کہ آپ کس چیز پر یقین کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ صرف یہ دیکھیں کہ حقائق کیا ہیں-  اور اخلاقی پیغام یہ دیناچاہوں گا کہ محبت کرنا دانشمندی ہے اور نفرت کرنا بیوقوفی ہے۔ یہ دنیا اب ایک دوسرے سے قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا سیکھنا ہو گا۔ ہمیں اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ کچھ لوگ ایسی باتیں کہیں گے جنہیں ہم پسند نہیں کرتے۔ یہ چیز اس سیارے پر انسانی زندگی کو جاری رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔

مائیں ہی نسل سنوارتی ہیں

(ایک قابل رشک واقعہ) ایک معلم قرآن انتہائی نصیحت آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک بچہ میرے پاس آیا جو مدرسے میں داخلہ لینے کا شدید خواہشمند تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: بچے! آپ کو قرآن کا کچھ حصہ زبانی یاد ہے؟ بچے نے کہا: جی۔ میں نے اس کا امتحان لیتے ہوئے کہا: پھر آپ مجھے تیسواں پارہ سنائیں۔ اس نے مجھے تیسواں پارہ زبانی سنا دیا۔ میں نے پوچھا: آپ کو سورۃ الملک بھی یاد ہے؟ اس نے مجھے سورۃ الملک بھی سنادی۔ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ اس چھوٹے سے بچے نے کم سنی کے باوجود قرآن کریم کا کچھ حصہ حفظ کیا ہوا ہے۔ میں نے اس سے سورۃ النحل سنانے کو کہا تو اسے وہ بھی یاد تھی۔۔ جوں جوں وہ میرے سوالات کا جواب دے رہا تھا، میری حیرانی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ اب اس سے بڑی سورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ میں نے کہا: آپ کو سورۃ البقرہ بھی یاد ہے؟ اس نے ”ہاں“ میں جواب دیا اور ساتھ ہیں کسی غلطی کے بغیر سورۃ البقرہ بھی زبانی سنا ڈالی۔ میں نے متعجب ہو کر پوچھا: بچے! لگتا ہے آپ نے پورا قرآن حفظ کر رکھا ہے؟ اس نے کہا: جی۔ یہ سنتے ہی فرط مسرت سے میری زبان سے بے ساختہ سبحان اللّٰہ ، ماشاءاللہ، تبارک اللہ کے الفا...

ثمرقند کو فتح کرنے والی ایمان افروز واقعہ

 ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔ پادری نے لکھا !   "ہم نے سنا تھا کہ  مسلمان  جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔  اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر  کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو  جنگ کے لئے  تیار ہو جاتے ہیں۔  مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔      یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا  عمر بن عبد العزیز  کے نام  لکھا تھا۔     دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔  جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن ل...

How to earn money online?

  ایک آدمی نے اخبار میں اشتہار دیا میں ڈائنوسار مارنے میں ماہر ہوں. اور اس کو مار کر اس میں سے ایک ہیرا نکلتا ہے جو چھبیس کروڑ ڈالر کا بکتا ہے۔ جیسے سیکھنا ہو دو ہزار ڈالر فیس دے کر میرے کورس میں داخلہ لے لے۔ بہت سے چنو منو جمع ہو گئے۔ فیس دے کر بیٹھ گئے۔ استاد جی نے ڈائنوسار کو پکڑنے اور مارنے کے بہت اعلی اعلی طریقے اسکرین پر سکھائے۔ امتحان لیا اور جو ٹاپ اسٹوڈنٹس تھے ان کو سرٹیفیکیٹ بھی دیا۔ ایک ٹاپر اسٹوڈنٹ کورس کرنے کے بعد نکلا، پانچ برس تک ڈائنوسار ڈھونڈنے کے لیے جنگل جنگل دریا دریا پھرتا رہا۔ ڈائنوسار نہ ملنا تھا نہ ملا۔ بہرحال یہ ضرور پتا چل گیا کہ ڈائنوسار دنیا سے ختم ہو گئے ہیں۔ سب جمع پونجی لٹا کر خستہ حال لٹا پٹا واپس پہنچا تو استاذ جی کے گھر گیا۔ پوری رام کتھا سنائی اور بولا کہ جب ڈائنوسار ہیں ہی نہیں تو آپ نے مجھے مارنے کا طریقہ کیوں سکھایا؟؟ میں تو بھوکا مر رہا ہوں آپ کے دیے گیے علم سے پیسے کیسے کماؤں؟؟ استاذ جی بولے "پتر تجھے کس نے بولا تھا ڈائنوسار ڈھونڈنے نکل جا؟ شاگرد: پھر ہیرا کیسے ملے گا؟ بیٹا ڈائنوسارس کے شکار کا تجھے کس نے کہا؟ تو بھی میری طرح ڈائنوسورس مار...

خونی رشتے آخرکار خون کے رشتے ہی ہوتے ہیں ، ان کی قدر کری

  کہتے ہیں کہ ایک دن گاؤں کے کنوئیں پہ عجیب ماجرا ھوا کہ جو ڈول بھی کنوئیں میں ڈالا جاتا واپس نہ آتا جبکہ رسی واپس آجاتی ، سارے لوگ خوفزدہ ھوگئے کہ اندر ضرور کوئی جن ھے جو یہ حرکت کرتا ھے آخر اعلان کیا گیا کہ جو بندہ اس راز کا پتہ لگائے گا اس کو انعام دیا جائے گا ،، ایک آدمی نے کہا کہ اس کو انعام کی کوئی ضرورت نہیں مگر وہ گاؤں والوں کی مصیبت کے ازالےکےلئے یہ قربانی دینے کو تیار ھے مگر ایک شرط پر،، شرط یہ ہے کہ میں کنوئیں میں اسی صورت اتروں گا جب رسا پکڑنے والوں میں میرا بھائی بھی شامل ھو ،، اس کے بھائی کو بلایا گیا اور رسہ پکڑنے والوں نے رسا پکڑا اور ایک ڈول میں بٹھا کر اس بندے کو کنوئیں میں اتار دیا گیا ، اس بندے نے دیکھا کہ کنوئیں میں ایک مچھندر قسم کا بندر بیٹھا ھوا ھے جو ڈول سے فوراً رسی کھول دیتا ہے ،، اس بندے نے اپنی جیب کو چیک کیا تو اسے گڑ مل گیا ،، اس نے وہ گڑ اس بندر کو دیا یوں بندر اس سے مانوس ھوگیا ، بندے نے اس بندر کو کندھے پر بٹھایا اور نیچے سے زور زور سے رسہ ہلایا ،، گاؤں والوں نے رسا کھینچنا شروع کیا اور جونہی ڈول اندھیرے سے روشنی میں آیا وہ ل...

پا نی ایک نعمت ہے

  دریا کے کنارے آباد شاداب نگر ایک ہرا بھرا قصبہ تھا۔وہاں کے لوگوں میں ایک خرابی تھی کہ وہ پانی جیسی نعمت کی قدر نہیں کرتے تھے۔ دنیا میں پانی کے ذخیرے تیزی کے ساتھ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ شاداب نگر میں بلاضرورت پانی بہانا ایک معمولی بات بن گئی تھی۔یوں دریا کا صاف شفاف پانی کم ہوتا جا رہا تھا۔دریا میں رہنے والی مچھلیاں بھی پریشان تھیں کہ پانی نہ رہا تو وہ مر جائیں گی۔ ایک دن تمام مچھلیاں دریا کی ملکہ مچھلی کے پاس جمع ہوئیں اور مسئلے کا حل نکالنے کی درخواست کی۔ ملک مچھلی نے یہ بات سن کر فیصلہ کیا کہ وہ ہمالیہ پہاڑوں میں رہنے والے بونے جادوگر سے مدد لے گی۔ہمالیہ پہاڑوں تک پہنچنے کے لئے اسے دریا کے بہاؤ کے مخالف سمت میں تیرنا تھا۔ پھر دریا میں جگہ جگہ خودرو جھاڑیاں بھی تھیں۔ جن میں پھنسنے کے بعد نکلنا مشکل تھا اور بڑے بڑے خوفناک کیکڑے بھی تھے،مگر ملکہ نے کسی بھی خطرے کی پرواہ نہ کی اور اللہ کا نام لے کر تیرنا شروع کر دیا۔ چھ دن تک لگاتار تیرنے کے بعد وہ وہاں پہنچ گئی،جہاں پہاڑوں سے برف پگھل رہی تھی اور پانی آبشاروں کی صورت میں گر رہا تھا۔ جادوگر وہاں بڑے مزے سے پانی میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھا...

حق بات کہنا کتنا مشکل ہے؟

 ،،،،،         کیا ہم بھی انسان ہیں؟      ،،،،،  قلم کو بنانے والے نے لکھنے والے کو یہ اختیار دیا کہ تو سیاہی سے لکھ یا خون سے ، بہت ہی کم لوگ قلم کے ساتھ جوڑتے ہیں،  کیونکہ بندوق کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل نہیں، لیکن قلم کے ساتھ حق لکھنا بہت ہی مشکل کام ہے، اللہ نے قلم پیدا کیا قلم پے لکھنے کے قابل ہونے کے لئے معلم پیدا کیا، کتنی محنت کتنی مشاقتوں کے بعد بندہ اس قابل ہو جاتا ہے،  کہ وہ قلم پے لکھ سکے،  لکھنے والے بڑے حساس ہوتے ہیں،  اس کو ہر کوئی سمجھ نہیں سکتا ، کیونکہ وہ احساس لکھتے ہیں اور لوگ الفاظ پڑھتے ہیں، ،           لکھنے والے،  سوشل ورکر ، اچھے کام کرنے والوں کو ایک بیماری ہوتی ہے ، جسے عرف عام میں ہر بات میں ٹانگ اڑانا کہتے ہے،  یہ جب بھی کوئی اچھا یا برا کام دیکھتا ہے،  اس کا اور اس کے دل و دماغ کا جھگڑا شروع ہو جاتا ہے، دل کہتا ہے لکھ ، معاشرے کی اچھائی،یا برائی کو سامنے لا ، لوگوں کو خبردار کر، کسی کو اپنے بس کے مطابق خیر پہنچا ، جبکہ دماغ کہتا ہے،  روک جا ٹھہ...

اللہ سے مدد مانگوں

 الجزائر میں ایک تاجر کی دکان جل گئی 🇩🇿 جہاں اس نے زندگی بھر کی کمائی کھو دی۔ تاہم، لوگوں کو حیرت میں ڈال کر، اس نے اپنے نقصان پر چیخنے کی بجائے، پانی کی درخواست کی، وضو کیا اور 2 نفل ادا کئے۔ بعد میں فرمایا کہ اگر مجھے رونا پڑا تو میں اللہ تعالیٰ کے سامنے روؤں گا جو میں نے جو کھویا اس سے زیادہ واپس کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔

پاسورٹ کو ہیک ہونے سے کیسے بچائے

فرض کیجیئے آپکا پاسورڈ تین حروف پر مشتمل ہے اور سارے حروف انگریزی کے ہیں۔ انگریزی کے ایلفابیٹس یعنی A, B,C,D وغیرہ۔ اب ایک ہیکر کو معلوم ہے کہ انگریزی میں کل 26 حروف ہیں۔ اب اگر وہ کوئی ایسا پروگرام بناتا ہے جو رینڈم حروف جنریٹ کرتا ہے۔ جو ایک حرف کو رینڈملی آپکے پاسورڈ کے طور پر ٹرائی کرتا ہے اور جب سارے حروف چیک کر لیتا ہے تو پھر دو دو حروف کی جوڑی سے آپکا پاسورڈ ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس سے ناکامی پر تین کے سیٹ  پر آتا ہے۔ اب تین کے سیٹ کے 26 حروف میں کتنے کمبینیشن بنیں گے؟  اسکا جواب ہے 2600 کمبینیشنز.  اگر آپکا پاسورڈ تین کی بجائے 4 حروف پر مشتمل ہو تو  اسکے کمینیشن بنیں گے 14950. اور اگر یہ دس انگریزی کے حروف پر مشتمل ہو تو 53 لاکھ سے زیادہ۔ سو ہیکر کا کمپیوٹر پروگرام ہر کمبینشن ٹرائی کرے گا اور بالآخر آپکا پاسورڈ ڈھونڈ نکالے گا۔ ایک جدید اور تیز رفتار  کمپیوٹر کے لیے 53 لاکھ سے زائد بار کمبینشن ٹرائی کرنا شاید چند گھنٹوں کا کام ہو(آج کل بار بار پاسورڈ ٹرائی کرنے پر اکاؤنٹس لاک ہو جاتے ہیں اور آگے سے پوچھا جاتا ہے کہ بندے ہو کہ روبوٹ). خیر جس قدر زیادہ ت...

کیا زمین سورج کے گرد گھومتی ہے

 گلیلیو کی زمین جو سورج کے گرد گھومتی تھی!!! اگر آپ پاکستان کے کسی معقول سکول میں پڑھے ہیں تو آپ شاید بچپن سے سنتے آئے ہونگے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے. تو یہ بات سائنسی طور پر درست ہے کہ زمین سورج کے گرد ہی گھومتی ہے۔ یہ خیال پہلی بار انسانی تاریخ میں 230 قبل مسیح میں ملتا ہے جبAristarchus جو ایک  یونانی فلاسفر  تھے، نے یہ خیال پیش کیا کہ زمین دراصل سورج کے گرد گھومتی ہے۔  یہ Heliocentric ماڈل تھا جسکے مطابق سورج کائنات کے مرکز پر ہے اور تمام سیارے بشمول زمین اسکے گرد گھومتے ہیں۔ مگر آج ہم جانتے ہیں کہ نظام شمسی ہماری کہکشاں ملکی وے کا ایک محض ایک معمولی سا حصہ ہے اور کائنات میں ہماری کہکشاں یا اس سے بھی بڑی کئی کہکشائیں اربوں کی تعداد میں موجود ہے۔ تاہم اس زمانے میں Aristarchus کے اس خیال کو ثابت کرنا مشکل تھا۔    انسانی تاریخ میں یہ خیال یونانیوں سے بعد میں آنے والی کئی تہذیبوں میں آیا اور اثر انداز بھی ہوا۔  لہذا یہ کہنا کہ یہ خیال انسانی تاریخ میں بالکل نیا ہے، غلط ہو گا۔ البتہ تاریخ میں  اس خیال سے زیادہ یونانی فلاسفر ارسطو کا یہ خیال زیا...

رسم یا بدعت

  میں نے دیکھا کہ کچھ مرد اور اکثر خواتین نماز پڑھنے کے بعد  اور اٹھنے سے پہلےجائے نماز کو ایک کونے سے موڑ دیتی ہیں وہ ایسا کیوں کرتی ہیں جب پوچھا تو مرد عموماً کوئی معقول جواب نہیں دیتے کہتے ہیں بس ایسے ہی عادت ہے اور خواتین کا جواب  اکثر وہی جواب ملا  جو ہم اپنی نانیوں دادیوں سے سنتے آئے ہیں کہ جناب اگر کونہ نہ موڑو تو شیطان نماز پڑھنے لگتا ہے کتنی عجیب بات ہے ناں وہ شیطان جو ایک سجدہ کرنے کو تیار نہ ہوا وہ بھلا اب  کیوں نماز پڑھنے لگا اگر اس نے اب سجدے کرنے ہوتے تو پہلے سجدے سے انکار ہی کیوں کرتا اسی لیے تو وہ راندہ درگاہ کر دیا گیا  اور اگر چلیں فرض محال  ایک منٹ کو مان بھی لیتے ہیں  کہ وہ نماز پڑھتا بھی ہے تو یہ تو اچھی بات ہے پڑھنے دیں آپ کا کیا جاتا ہے  دوستو اللہ تعالی فرماتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ  اے ایمان والو بہت بدگمانیوں سے بچو یقین مانو کہ بعض بدگمانیاں گناه ہیں سورة الحجرات ایسی کتنی ہی سینہ بہ سینہ توہمات ہمارے آباو اجداد سے چلتے چلتے ہم تک پہن...

علم و شعور

۱- انسان علم سے ڈرتا بھی ہے ۲- علم کے حصول میں ملنے والی تکالیف کو کم کم ہی بیان کیا جاتا ہے ۳- سوال آپ کو تنہا بھی کر سکتا ہے ۴- انسان صرف انسان ہونے کی بنیاد پر بھی عزت کا مستحق ہے ۵- سب سے زیادہ تکلیف دہ سماجی رویہ یہ ہے کہ لوگوں کو نسل در نسل غریب رکھا جاۓ ۶- ایک نسل میں غربت کا ہونا قابلِ فہم ہے مگر نسل در نسل غربت  کا ہونا ایک سماجی جرم ہے ۷- وقت کا بےرحم عمل یہ ہے کہ وہ چہروں پر پڑے نقابوں کو اُتارتا ہے ۸- علم کا ایک مقصد فریب کو عیاں کرنا بھی ہے اسی لیے علم کے حصول کو اپنی زندگی کا لازمی جز بنائیں ۹- لفظ تعاقب کرتے ہیں اسی لیے بولنے اور لکھنے کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے ۱۰- کسی کے ڈر و خوف سے اپنی باتوں سے مکرنے سے زیادہ بہتر ہے کہ معاملات پر خاموش رہا جاۓ ۱۱- بےلگام بولنا معاشروں میں انتشار پیدا کرتا ہے اسی لیے یہ انتشار اُس وقت ختم ہوتا ہے جب بولنے کی حدود کا تعین کر لیا جاتا ہے ۱۲- محدود لامحدود کا حصّہ ہے اسی لیے محدود نے لامحدود میں ضم ہونا ہوتا ہے کیونکہ لامحدود محدود میں ضم نہیں ہو سکتا ہے ۱۳- تبدیلی کی خواہش سیکھنے کے عمل سے مشروط ہے ۱۴- نفرت = اختلاف + ع...