Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Urdu Stories

Top 10 AI Tools for 2023: ChatGPT, Google Bard, and More

  Introduction: Artificial intelligence (AI) is rapidly changing the world, and there are now a wide variety of AI tools available to businesses and individuals. These tools can be used for a variety of purposes, including automating tasks, generating creative content, and providing insights into data. In this blog post, we will discuss the top 10 AI tools for 2023. These tools include ChatGPT, Google Bard, and a variety of other powerful AI solutions. 1. Chat GPT: Chat GPT, powered by OpenAI, is an advanced language model that enables natural and engaging conversations with users. It leverages deep learning to generate contextually relevant responses and has gained popularity for its ability to understand and mimic human-like conversations. 2. Google BARD: Google BARD (Bidirectional Encoder Representations from Transformers) is a state-of-the-art language model developed by Google. It excels in various language-related tasks, such as text completion, summarization, and translatio...

وقت ایک سا نہیں رہتا

  کچھ دن پہلے میں ایک شاپنگ مال کے باہر کھڑا اپنی بیگم کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک بہت خوش پوش اور شستہ زبان بولنے والے صاحب نے میری گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا۔ میں نے شیشہ نیچے کیا اور ان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ انھوں نے بہت محبت سے مجھ سے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کروایا: "I am Tayyab"۔۔۔ کیا ہم آپ سے بات کر سکتے ہیں؟ میں گاڑی سے اترا اور ان کی جانب متوجہ ہوا اور کہا: "جی فرمائیے"۔ طیب خان ہے میرا نام۔۔۔۔ میں 78 سال کا ہوں۔ میری کچھ خواہشیں ہیں۔ کیا آپ پوری کر دیں گے؟ میں نے بھی کچھ ویسا ہی سوچا، جیسا اس وقت آپ سوچ رہے ہیں۔ میں ان کو لیکچر دینے کے موڈ میں تھا کہ اللہ تعالیٰ سے مانگیں وغیرہ۔ مگر میں نے سوچا کہ یہ جو بھی ہے۔۔۔ سچا ہے یا مکار، اسے میرے پاس اللہ پاک نے ہی بھیجا ہے۔۔۔ تو کیوں نہ پہلے اس سے اس کی بات سن لوں۔ میں نے کہا جی میں کوشش کروں گا، آپ حکم فرمائیں۔ ان کے چہرے پر ایک حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات ابھرے۔ انھوں نے کہا، کیا واقعی آپ کوشش کریں گے؟ میں نے انھیں یقین دلایا اور تحمل سے ان کی بات سننے کیلئے ان کی جانب متوجہ ہوا۔ میں ایک ٹیکسٹائل مل ک...

مائیں ہی نسل سنوارتی ہیں

(ایک قابل رشک واقعہ) ایک معلم قرآن انتہائی نصیحت آموز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک بچہ میرے پاس آیا جو مدرسے میں داخلہ لینے کا شدید خواہشمند تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: بچے! آپ کو قرآن کا کچھ حصہ زبانی یاد ہے؟ بچے نے کہا: جی۔ میں نے اس کا امتحان لیتے ہوئے کہا: پھر آپ مجھے تیسواں پارہ سنائیں۔ اس نے مجھے تیسواں پارہ زبانی سنا دیا۔ میں نے پوچھا: آپ کو سورۃ الملک بھی یاد ہے؟ اس نے مجھے سورۃ الملک بھی سنادی۔ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ اس چھوٹے سے بچے نے کم سنی کے باوجود قرآن کریم کا کچھ حصہ حفظ کیا ہوا ہے۔ میں نے اس سے سورۃ النحل سنانے کو کہا تو اسے وہ بھی یاد تھی۔۔ جوں جوں وہ میرے سوالات کا جواب دے رہا تھا، میری حیرانی بڑھتی جا رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ اب اس سے بڑی سورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ میں نے کہا: آپ کو سورۃ البقرہ بھی یاد ہے؟ اس نے ”ہاں“ میں جواب دیا اور ساتھ ہیں کسی غلطی کے بغیر سورۃ البقرہ بھی زبانی سنا ڈالی۔ میں نے متعجب ہو کر پوچھا: بچے! لگتا ہے آپ نے پورا قرآن حفظ کر رکھا ہے؟ اس نے کہا: جی۔ یہ سنتے ہی فرط مسرت سے میری زبان سے بے ساختہ سبحان اللّٰہ ، ماشاءاللہ، تبارک اللہ کے الفا...

ثمرقند کو فتح کرنے والی ایمان افروز واقعہ

 ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کےحکمران سے ملنا چاہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔ پادری نے لکھا !   "ہم نے سنا تھا کہ  مسلمان  جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔  اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر  کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو  جنگ کے لئے  تیار ہو جاتے ہیں۔  مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔      یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے اسلامی سلطنت کے فرماں روا  عمر بن عبد العزیز  کے نام  لکھا تھا۔     دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔  جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن ل...

How to earn money online?

  ایک آدمی نے اخبار میں اشتہار دیا میں ڈائنوسار مارنے میں ماہر ہوں. اور اس کو مار کر اس میں سے ایک ہیرا نکلتا ہے جو چھبیس کروڑ ڈالر کا بکتا ہے۔ جیسے سیکھنا ہو دو ہزار ڈالر فیس دے کر میرے کورس میں داخلہ لے لے۔ بہت سے چنو منو جمع ہو گئے۔ فیس دے کر بیٹھ گئے۔ استاد جی نے ڈائنوسار کو پکڑنے اور مارنے کے بہت اعلی اعلی طریقے اسکرین پر سکھائے۔ امتحان لیا اور جو ٹاپ اسٹوڈنٹس تھے ان کو سرٹیفیکیٹ بھی دیا۔ ایک ٹاپر اسٹوڈنٹ کورس کرنے کے بعد نکلا، پانچ برس تک ڈائنوسار ڈھونڈنے کے لیے جنگل جنگل دریا دریا پھرتا رہا۔ ڈائنوسار نہ ملنا تھا نہ ملا۔ بہرحال یہ ضرور پتا چل گیا کہ ڈائنوسار دنیا سے ختم ہو گئے ہیں۔ سب جمع پونجی لٹا کر خستہ حال لٹا پٹا واپس پہنچا تو استاذ جی کے گھر گیا۔ پوری رام کتھا سنائی اور بولا کہ جب ڈائنوسار ہیں ہی نہیں تو آپ نے مجھے مارنے کا طریقہ کیوں سکھایا؟؟ میں تو بھوکا مر رہا ہوں آپ کے دیے گیے علم سے پیسے کیسے کماؤں؟؟ استاذ جی بولے "پتر تجھے کس نے بولا تھا ڈائنوسار ڈھونڈنے نکل جا؟ شاگرد: پھر ہیرا کیسے ملے گا؟ بیٹا ڈائنوسارس کے شکار کا تجھے کس نے کہا؟ تو بھی میری طرح ڈائنوسورس مار...

خونی رشتے آخرکار خون کے رشتے ہی ہوتے ہیں ، ان کی قدر کری

  کہتے ہیں کہ ایک دن گاؤں کے کنوئیں پہ عجیب ماجرا ھوا کہ جو ڈول بھی کنوئیں میں ڈالا جاتا واپس نہ آتا جبکہ رسی واپس آجاتی ، سارے لوگ خوفزدہ ھوگئے کہ اندر ضرور کوئی جن ھے جو یہ حرکت کرتا ھے آخر اعلان کیا گیا کہ جو بندہ اس راز کا پتہ لگائے گا اس کو انعام دیا جائے گا ،، ایک آدمی نے کہا کہ اس کو انعام کی کوئی ضرورت نہیں مگر وہ گاؤں والوں کی مصیبت کے ازالےکےلئے یہ قربانی دینے کو تیار ھے مگر ایک شرط پر،، شرط یہ ہے کہ میں کنوئیں میں اسی صورت اتروں گا جب رسا پکڑنے والوں میں میرا بھائی بھی شامل ھو ،، اس کے بھائی کو بلایا گیا اور رسہ پکڑنے والوں نے رسا پکڑا اور ایک ڈول میں بٹھا کر اس بندے کو کنوئیں میں اتار دیا گیا ، اس بندے نے دیکھا کہ کنوئیں میں ایک مچھندر قسم کا بندر بیٹھا ھوا ھے جو ڈول سے فوراً رسی کھول دیتا ہے ،، اس بندے نے اپنی جیب کو چیک کیا تو اسے گڑ مل گیا ،، اس نے وہ گڑ اس بندر کو دیا یوں بندر اس سے مانوس ھوگیا ، بندے نے اس بندر کو کندھے پر بٹھایا اور نیچے سے زور زور سے رسہ ہلایا ،، گاؤں والوں نے رسا کھینچنا شروع کیا اور جونہی ڈول اندھیرے سے روشنی میں آیا وہ ل...

منگول شہزادی کوتلون کی شادی

 منگول شہزادی کوتلون چودہ بھائیوں کی اکلوتی بہن اور ایک شاندار جنگجو لڑکی تھی. اپنے دور کے فن جنگ کے ہر شعبے میں مہارت رکھتی تھی. چاہے وہ گھڑ سواری ہو تیر اندازی ہو دو بدو جنگ ہو یا نیزہ بازی کوتلون کا کوئی ثانی نہیں تھا. کوتلون کی ایک شرط تھی. وہ کہتی تھی شادی اسی سے کرے گی جو اسے کشتی میں ہرا دے گا. لیکن اگر کشتی لڑنے والا ہار جائے تو اسے کوتلون کو ایک گھوڑا دینا ہوگا. کوتلون کے پاس دس ہزار گھوڑے جمع ہوگئے تھے لیکن اس کی شادی نہیں ہوئی. اس میں ایک ایسا بہادر بھی تھا جس نے ایک ہزار گھوڑے کوتلون سے لڑ کر ہارے تھے. لیکن وہ کوتلون کو جیت نہ سکا. لیکن ایک دن کوتلون ہار گئی. اس نے شادی کر لی تھی. بغیر کشتی بغیر لڑے کوتلون کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی جس سے کوتلون لڑنا ہی نہیں چاہتی تھی. کیونکہ اسے اُس سے محبت ہوگئی تھی. وہ اپنا دل ہار بیٹھی تھی. احساسات کے میدان میں عورت وہ جنگجو ہے جس سے لڑ کر جیتنا بہت مشکل ہے. عورت ہمیشہ دل سے ہارتی ہے.  ازدواجی زندگیوں میں مردانگی کے بھرم میں گھر کو میدان جنگ نہ بنائیں. اس میدان میں ہر عورت شہزادی کوتلون ہے. دل جیتنے کی کوشش کریں گھر گل گلزار ...

صدقہ کے بارے میں ایک ایمان افروز واقعہ

 *ایک سعودی تاجر کا بیان ہے کہ میں اور میرا دوست سعود شہر بریدہ میں تجارت کرتے تھے۔* *ایک دن میں جمعہ کی نماز کے لیے بریدہ کی مسجد الکبیر میں گیا ،* *نماز جمعہ کے بعد جنازہ کا اعلان ہوا،* *نماز جنازہ ادا کی گئی لوگوں نے ایک دوسرے سے پوچھنا شروع کر دیا کہ یہ جنازہ کس کا ہے،* *پتہ چلا کہ یہ جنازہ میرے ہی دوست سعود   کا ہے* *جو گزشتہ رات ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گیا تھا.*  *مجھے سُن کر انتہائی صدمہ پہنچا* *یہ سن 1998 یعنی کوئی 22 برس پہلے کی بات ہے،* *اس وقت ابھی موبائل فون عام نہیں ہوا تھا* *چند مہینے گزرنے کے بعد وہاں کے ایک دکاندار نے مجھ سے بات کی کہ مرحوم سعود کے ذمے میرے 3لاکھ ریال ہیں* *تو آپ میرے ساتھ چلیں ہم جا کر اس کے بیٹوں سے بات کریں* *اور یہ بات پہلے سے میرے علم میں تھی کہ سعود کے ذمہ یہ قرض ھے۔*  *چنانچہ ہم مرحوم کے بیٹوں سے جا کر ملے* *بات چیت ہوئی تو انہوں نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے رقم لوٹانے سے صاف انکار کردیا ۔* *اور کہا کہ ہمارے باپ نے تو صرف 6لاکھ ریال چھوڑا ہے* *اگر 3لاکھ ہم آپ کو دیتے ہیں تو پھر ہمارے پاس کیا بچے گا...؟؟؟* *اس دور میں بہت سا لین دین ...

نیکی کھبی رائیگاں نہیں جاتی

 ایک پینٹر کو ایک کشتی پر رنگ کرنے کا ٹھیکہ ملا۔  کام کے دوران اُسے کشتی میں ایک سوراخ نظر آیا اور اُس نے اِس سوراخ کو بھی مرمت کر دیا۔  پینٹنگ مکمل کر کے شام کو آس نے کشتی کے مالک سے اپنی اُجرت لی اور گھر چلا گیا۔ دو دن بعد کشتی والے نے اُسے پھر بلایا اور ایک خطیر رقم کا چیک دیا۔ پینٹر کے استفسار پر اُس نے بتا یا کہ اگلے دن آس کے بچّےبغیر اُس کے علم میں لائے کشتی لے کر سمندر کی طرف نکل گئے۔ اور پھر جب اُسے خیال آیا کہ کشتی میں تو ایک سُوراخ بھی تھا تو وہ بہت پریشان ہوگیا۔ ۔۔۔۔۔۔  لیکن شام بچّوں کوہنستے مسکراتے آتے دیکھا تو خوشگوار حیرت میں مبتلا ھو گیا۔ اُس نے پینٹر سے کہا کہ یہ رقم تمہارے احسان کا بدل تو نہیں مگر میری جانب سے تمہارے لیئے محبت کا ایک ادنیٰ اظھار ہے۔۔۔۔ آپ کی زندگی میں بھی بہت سےایسے چھوٹے چھوٹے کام آئیں گے جو آپ کے کام نہیں ۔۔۔۔  مگر وہ کام بھی کرتے جائیے۔۔۔۔۔۔ نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی کسی نہ کسی کی زندگی بچاتی ہے  کسی نہ کسی کی خوشیوں کا باعث بنتی ہے۔ مثبت سوچ اور مثبت کردار ہی کامیابی ہے۔  

جان ڈی راک فیلر

  جان ڈی راک فیلر کبھی دنیا کے امیر ترین آدمی تھے۔ دنیا کا پہلا ارب پتی۔ 25 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ کی سب سے بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک کو کنٹرول کیا۔ 31 سال کی عمر میں، وہ دنیا کا سب سے بڑا تیل صاف کرنے والا بن گیا تھا۔ 38 سال کی عمر میں، اس نے امریکہ میں 90 فیصد تیل کو صاف کیا۔ 50 تک، وہ ملک کا سب سے امیر آدمی تھا۔ ایک نوجوان کے طور پر، ہر فیصلہ، رویہ، اور رشتہ اس کی ذاتی طاقت اور دولت پیدا کرنے کے لئے تیار کیا گیا تھا. لیکن 53 سال کی عمر میں وہ بیمار ہو گئے۔ اس کا پورا جسم درد سے لرز گیا اور اس کے سارے بال جھڑ گئے۔ مکمل اذیت میں، دنیا کا واحد ارب پتی اپنی مرضی کے مطابق کچھ بھی خرید سکتا تھا، لیکن وہ صرف سوپ اور کریکر ہضم کر سکتا تھا۔ ایک ساتھی نے لکھا، وہ سو نہیں سکتا تھا، مسکرا نہیں سکتا تھا اور زندگی میں کوئی بھی چیز اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ اس کے ذاتی، انتہائی ماہر ڈاکٹروں نے پیش گوئی کی تھی کہ وہ ایک سال کے اندر مر جائے گا۔ وہ سال اذیت سے آہستہ آہستہ گزر گیا۔ جب وہ موت کے قریب پہنچا تو وہ ایک صبح اس مبہم احساس کے ساتھ بیدار ہوا کہ وہ اپنی دولت...

اتحاد کا پل

دو بھائیوں کو وراثت میں زمین ملی تھی اور وہ سالوں سے اُس پر اکٹھے کام کر رھے تھے۔ ایک دن کسی معمولی بات پر دونوں کی تکرار ھو گئی اور بات اِتنی بڑھی کہ دونوں نے زمین کے بٹوارے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک دن بڑے بھائی کے دروازے پر دستک ھوئی، دروازہ کھولا تو ایک مزدور کھڑا تھا۔ مزدور کہنے لگا: "میں کئی دنوں سے کسی کام کی تلاش میں ھوں آپ کا دروازہ اس امید پر کھڑکایا ھے کہ شاید آپ کے گھر یا کھیت میں کوئی کام ھو جو میں انجام دے سکوں۔" "اتفاقاً مجھے بھی کسی کاریگر کی تلاش تھی۔ ھمارے کھیتوں کے بیچ میرے چھوٹے بھائی نے ایک نہر کھدوائی ھے۔ میں چاھتا ھوں کہ تم ھماری زمینوں کے بیچ ایک دیوار بنا لو تاکہ میں آئندہ اُس کی شکل بھی نہ دیکھ سکوں۔" کاریگر نے کہا کہ جیسا آپ چاھیں، اور اُس نے پیمائش شروع کر دی۔ بڑا بھائی کہنے لگا؛ "میں قریبی قصبے جا رھا ھوں ایک کام سے، تمہیں اگر کام کے لئے کسی چیز کی ضرورت ھو تو کہو تاکہ میں ساتھ لے آؤں۔" کاریگر نے کہا کہ اُس کے پاس سب چیزیں ھیں اور کسی چیز کی حاجت نہیں ھے۔ شام کو جب وہ قصبے سے واپس آیا تو یہ دیکھ کر اُسے حیرت بھی ھوئی اور غصّہ بھی...